انگلستان میں اردو زبان وادب سے دل چسپی لینے کی روایت کا آغاز  اس وقت سے ہوتا ہے جب انگریز پاک  و ہند میں تاجر کی  حیثیت سے آئے اور 1800 میں  کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج قا یم کیا اور ڈاکٹر جان گل کرسٹ  نے یہاں اُردو کے پروفیسر کی حیثیت سے پڑھانا شروع کیا۔ اُنہوں نے اُردو زبان کی تدریس اور ترویج واشاعت کے لیے جو کارہائے نمایاں انجام دئیے وہ اردو زبان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے۔ اُنہوں نے تقریباََ ستر کتابیں اُردو زبان وادب  سے متعلق تصنیف وتالیف کیں۔

وہ  جب فورٹ ولیم کالج سے سبکدوش ہو کر  لندن واپس آئے تو  اُنہوں نے  لیسٹر اسکوائیر لندن میں اُردو زبان کی تدریس کا ایک کالج قایم کیا جہاں سے وہ انگریز  اردو کی تعلیم حاصل کرتے تھے جن کو ملازمت کے سلسلے میں ہندوستان آنا پڑتا تھا۔ ڈاکٹر جان گل کرسٹ اس کالج کی رپورٹیں جو کہ بڑی محدود تعداد میں چھپتی تھیں ان کو ایسٹ انڈیا کے ڈائریکٹروں کو باقاعدگی سے بھجتے تھے۔ ان  رپورٹس کا ایک نسخہ آج بھی  اسکول آف  اورنٹیل اینڈ افریکن اسٹیڈیز لندن کے کتب  خانے میں محفوظ ہے۔ ان  کی اس دل چسپی کی  وجہ سے لندن میں  اُردو زبان کی  تدریس اور تحقیق کا ماحول پیدا ہوا ،اگرچہ لیسٹر اسکوئیر میں گل کرسٹ کا قایم کیا ہوا کالج بند ہو گیا مگر بعض ایسے ادارے کُھل گئے جو اُردو کی تعلیم وتدریس میں پیش پیش رہے اس میں ھلبری کالج کا نام خاص  اہمیت کا حامل ہے۔ لند ن  یونیورسٹی کے کنگز کالج میں بھی باقاعدہ اُردو کی تعلیم ہوتی تھی اور ہو رہی ہے۔ جب اسکول آف  اورینٹل اینڈ افریکن اسٹیڈیز لندن کاقیام عمل میں آیا تو وہاں اُردو تدریس اور تحقیق کا  شاندار ماحول پیدا      ہوا۔  1930 کے آس پاس وہاں اُردو زبان کا ایک باقاعدہ شعبہ قایم  ہو  چکا تھا اور ڈاکٹر گراہم بیلی   وہاں اُردو کے ریڈر کے عہدے پر فائز ہو چکے تھے۔ ان کی نگرانی میں جن لوگوں نے تحقیق کا م کیا اور پی۔ایچ۔ڈی کے مقالے لکھے ان میں ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور،ڈاکٹر محمد باقر اور ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ تحقیق اور تدریس کی یہ فضا قایم رہی اور رالف رسل( جن کو برطانوی بابائے اُردو بھی کہتے ہیں)، ڈاکٹر حامد حسن بلگرامی،ڈاکٹر خورشید السلام، عزیز احمد،ڈاکٹر عبادت بریلوی ،پروفیسر کرسٹوفرشیکل اور ڈاکٹر ڈیوڈ میتھوز نے  تدریسی   حوالے سےبڑا  کام کیا۔ اسکول آف  اورینٹل اینڈ افریکن اسٹیڈیز لندن میں آج بھی اُردو پڑھائی جا رہی ہے۔ آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی میں بھی اُردو  پڑھائی جا رہی ہے۔  

مانچسٹر یونیورسٹی  میں اُردو کی تدریس 2007سے جاری ہے اور اُردو زبان اور کلچر کا کورس میں پچھلے چار سالوں سے وہاں پڑھا رہا ہوں۔

اُردو برطانیہ کے سکولوں میں  طویل عر صےسے ایک جدید زبان کے طور پر پڑھائی جا               رہی ہے۔ ہر سال اوسطاً پانچ ہزار کے قریب طالب علم جی۔سی۔ایس۔ای  اُردو  کا امتحان پاس کرتے ہیں اور پانچ سو کے قریب اُردو  اے لیول کا امتحان دیتے   ہیں۔  جن میں سے  ایک  کثیر تعداد لڑکیوں کی ہے۔ دو بڑے ایگزم بورڈ جی سی ایس ای اور اے لیول اُردو کے امتحانات آفر کرتے ہیں۔  

اے لیول اُردو  کے بعد یونیورسٹی میں ڈگری کورسسز کے ساتھ اُردو  پڑھنے کی کمی بڑی محسوس کی جاتی تھی جو اب مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی نے پوری کر دی ہے۔ مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی  برطانیہ کی پہلی یونیورسٹی ہے جو اُردو میں ڈگری لیول کے  کورسسز  کے ساتھ اُردو پڑھنے کا مواقع فراہم کررہی ہے ۔یہ  طالب علموں کو یہ موقع مہیا کرے گی کہ وہ ایک ایسی زبان

 (اُردو) میں تعلیمی مہارت حا صل کریں جو دُنیا بھر میں تقریباً ایک سو ملین لوگ بولتے ہیں۔ مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی  میں بی۔اے آنرز  کے  درج  ذیل ڈگری کورسسز کے ساتھ اُردو  بطور جدید زبان پڑھی جا سکتی ہے:

  • BA (Hons) Business with Urdu
  • BA (Hons) International Business with Urdu
  • BA (Hons) International Politics with Urdu
  • BA (Hons) Multimedia Journalism with Urdu
  • BA (Hons) Linguistics with Urdu
  • BA (Hons) TESOL with Urdu
  • BA (Hons) French with Urdu
  • BA (Hons) English with Urdu
  • BA (Hons) Spanish with Urdu

اس کے علاوہ  اُردو زبان اُن ملکوں میں بھی بولی اور سمجھی  جاتی ہے جو برطانیہ کی تجارت کے لیے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ 2011 کی مردم شماری  کے مطابق اُردو  برطانیہ کی چوتھی بڑی بولے جانے والی زبان ہے۔ اب   ہماری ذمے داری ہے کہ ہم سب مل کر  برطانیہ میں اردو کو فروغ دیں اور نئی نسل کو  اس کےتہذیبی  اور  ثقافتی ورثے سے آگاہ کریں۔ آخر میں رضا علی عابدی کے ان الفاظ کے ساتھ آپ سے اجازت چاہوں گا ( اُردو زبان مجھ سے نہیں مگر میں اس زبان سے ضرور ہوں۔ اس نے میرا بھلا چاہا،میں اس کا بھلا چاہتا ہوں۔ یہ کوئی ادلے بدلے کا سودا نہیں، یہ میرے آنگن میں بکھری ہوئی روشنی ہے اور میرے چمن میں پھیلی ہوئی  خوشبو ہے، یہ میرے سینے میں دھڑکتی  ہوئی زندگی کی علامت ہے،یہ میرے وجود پر برستی ہوئی ٹھنڈک  اور میرے ماتھے پر رکھی ہوئی ماں کی ہتھیلی ہے۔ یہ زبان راحت چین،سکون،آرام اور آسائش کاآمیزہ ہے۔ بس یہ زبان کھلی ہوئی بانہیں مانگتی ہے۔ وہ کھلی ہوں تو یہ آپ ہی سینے سے لگ جاتی ہے۔ )

!آئیے اپنی بانہیں کھولیں اور اپنی اُردو زبان کو سینے سے لگائیں۔