جن کے دم سے تھی بزم کی رونق
ہائے وہ لوگ اٹھتے جاتے ہیں

جمیل الدین عالی

لفظ کی حرمت اور عظمت کا  فہم رکھنے والے ممتاز شاعر،محقق ،نقاد، دانشور اور فروغ اردو کے عظیم علم بردار جناب جمیل الدین عالی اب اس دینا میں نہیں رہے ۔ جمیل الدین عالی ایک متحرک سوچ اور سچی فکر رکھنے والی شخصیت تھے۔ جمیل الدین عالی کا انتقال  ۲۳ نو مبر بروز پیر کراچی کے  ایک نجی ہسپتا ل میں ہوا۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر ۹۰ سال تھی۔

جمیل الدین عالی نام جمیل الدین احمد جب کہ ’عالی ‘ ان کا تخلص تھا۔ وہ  جنوری 1926 کو دہلی میں پیدا ہوئے اور پاکستان بننے کے فوراً بعد کراچی آگئے اور یہاں سکونت اختیار کرلی۔ جمیل الدین عالی کا تعلق ،علمی اور ادبی خانوادے سے تھا اور ان کے والد امیرالدین خان مرزا غالب کے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے جب کہ والدہ خواجہ میر درد کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔

جمیل الدین عالی نے کئی حکومتی محکموں میں بطور افسر اور بیوروکریٹ اپنی خدمات انجام دیں اور اعلیٰ عہدوں پر متمکن رہے جبکہ صدر ایوب خان کے عہد میں پاکستان رائٹرز گلڈ انہی کی کاوشوں سے وجود میں آئی جس کی ترقی اور فروغ کے لیے وہ ہمہ تن کوشاں رہے۔  ان کے کالم دنیا بھر میں مقبول ہوئے اور ان کے تحریر کردہ ملی نغمے آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ جمیل الدین عالی بابائے اردو مولوی عبدالحق کے شاگرد رہے اور ابنِ انشا سے لے کر قدرت اللہ شہاب تک کے رفیقِ کار رہے۔

انجمن ترقی اردو اور اردو ڈکشنری بورڈ کے تحت جمیل الدین عالی نے لازوال کوششیں کیں اور پاکستان رائٹرز گلڈ سے ادیبوں کے لیے خصوصی ایوارڈز کا اجرا کیا جو کئی برس تک جاری رہا۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ رنگ اور   عشق وعاشقی کے مضامین غالب رحجان کی حیثیت رکھتے ہیں تاہم ان کو  ایک دوہا نگار کی  حیثیت سے زیادہ جانا جاتا ہے۔

دوہا نگاری عالی کی شاعری کا بنیادی وصف ہے جس کی بدولت انھیں سب سے زیادہ اور نمایاں مقبولیت حاصل ہوئی مگر تکنیکی اعتبار سے ان کے دوہے ہندی شاعری کے معروف دوہا نگاروں بشمول عبدالرحیم خان خاناں، تلسی داس، بہاری، امیر خسرو اور کبیر داس سے مختلف ہیں۔ عروضی اعتبار سے بھی یہ دوہے کلاسیکی ہندی شاعروں کے دوہوں سے اپنا ایک الگ انگ، رنگ اور آہنگ رکھتے ہیں۔ نیز ان کے اوزان بھی کافی مختلف ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

ساجن ہم سے ملے بھی لیکن ایسے ملے کہ ہائے
جیسے سوکھے کھیت سے بادل بن برسے اُڑ جائے
ٹھنڈی چاندنی‘ اجلا بستر بھیگی بھیگی رین
سب کچھ ہے پر وہ نہیں یارو جس کو ترس گئے نین

امر واقعہ یہ ہے کہ عالی نے دوہوں کے ذریعے اپنی روح کی پیاس بجھانے کا اہتمام کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:

دوہے گیت سنا کر عالی من کی پیاس بجھائے
من کی پیاس بجھی نہ کسی سے اسے یہ کون بتائے

ہندی دوہوں سے استفادہ کرنے کے علاوہ عالی جی نے سندھی شاعری میں بھی شاہ عبداللطیف بھٹائی کے رنگ کو بھی ایک نیا آہنگ دینے کی کامیاب کوشش کی ہے جسے پوری قوم نے بہت پسند کیا ہے اور بے حد سراہا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

اتنے بڑے جیون ساگر میں
تُو نے پاکستان دیا
ہو اللہ‘ ہو اللہ
ساحل ابھرا بیچ بھنور میں
ایک نیا امکان دیا
ہو اللہ‘ ہو اللہ

عالی نے اپنی غزل کی طرح دیگر اصناف شاعری کو بھی فارسی لفظیات کے سانچے میں ڈھالنے کے بجائے ہندی کے تال میل سے سجانے کی خوبصورت اور کامیاب کوشش کی ہے جس نے ان کی شاعری کو چار چاند لگا دیے ہیں اور مقبولیت کے بام عروج تک پہنچا دیا ہے۔

نثر میں بھی عالی نے اپنا ایک منفرد اسلوب اختیار کیا جس کا عکس بالکل واضح طور پر ان کی ہر تحریر میں دکھائی دیتا ہے۔ ان کی کالم نگاری کا عرصہ بھی نصف صدی سے زیادہ پر محیط ہے۔ ان کے اخباری کالم عام کالم نگاروں سے بہت مختلف ہیں جن پر ان کی شاعری اور دانش وری کی چھاپ نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ کالموں کے علاوہ ان کے سفر نامے بعنوان ’’دنیا مرے آگے‘‘، ’’تماشا مرے آگے‘‘ بھی بہت مقبول ہوئے۔ ان کے سفرناموں میں ایران، عراق، مصر، لبنان، برطانیہ، روس، جرمنی، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ، اٹلی اور امریکا سمیت کئی اہم ممالک شامل ہیں۔ کے علاوہ عالی جی کی نثرنگاری میں ان کی مختصر تحریریں بھی شامل ہیں جو انھوں نے انجمن ترقی اردو کی مطبوعات پر ’’حرف چند‘‘ کے عنوان سے سپرد قلم کی ہیں۔

عالی صاحب نے پچیس کے قریب معروف قومی گیت تحریر کیے جن میں جُگ جُگ جیے میرا پیارا وطن، جیوے جیوے جیوے پاکستان، اے وطن کے سجیلے جوانو، سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد و دیگر شامل ہیں۔

جمیل الدین عالی کو ان کی ناقابلِ فراموش خدمات کے صلے میں کئی اہم اعزازات سے نوازا گیا جن میں ستارہ امتیاز، آدمجی ادبی ایوارڈ اور کمالِ فن ایوارڈ قابلِ ذکر ہیں۔

وہ 1977 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے امیدوار بھی بنے جبکہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر ایوان بالا میں نمائندگی کی۔

ڈاکٹر فہمیدہ عتیق (مرحومہ) کی کتاب جمیل الدین عالی شخصیت و فن کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ کتاب لکھی  جو  اُن کا  ڈاکٹر جمیل الدین عالی پر پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے

مقالہ نگار ڈاکٹر فہمیدہ عتیق اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ انھوں نے اس مقالے میں بڑی جاں فشانی سے جمیل الدین عالی کے شخصی اور فنی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اور اس تحقیقی وتنقیدی مطالعے میں عالی جی کی زندگی کے تمام گوشے سمودیے ہیں، اور مختلف عنوانات کے تحت جمیل الدین عالی کی پوری زندگی اور خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے،

جن میں ’’حیات وشخصیت‘‘، ’’عالی کی شاعری کا پس منظر‘‘،’’عالی کی شاعری کی ارتقائی منازل‘‘،’’عالی کی نثرنگاری‘‘،’’سماجی وعلمی خدمات‘‘ کے زیرعنوان باب شامل ہیں۔ محترمہ فہمیدہ عتیق نے یہ مقالہ بڑی محنت سے تحریر کیا ہے، جس میں جمیل الدین عالی کے خاندانی پس منظر سے لے کر ان کی زندگی کے اہم واقعات، وہ پس منظر جس میں ان کی شاعری پروان چڑھی، ان کے کلام اور نثر کا تنقیدی جائزہ اور بہ حیثیت دانش ور اور بیوروکریٹ جمیل الدین عالی کی ادبی وسماجی خدمات سمیت ان کی زندگی کا ہر گوشہ سمودیا گیا ہے۔

اردو کی ترویج و فروغ کے حوالے سے عالی جی کی خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ وہ پورے 54 برس تک انجمن ترقی اردو پاکستان کے اعزازی معتمد کے طور پر بے لوث خدمات انجام دیتے رہے اور بابائے اردو مولوی عبدالحق کے خواب کو اردو یونیورسٹی کی صورت میں شرمندہ تعبیر کرنے کا سہرا بھی ان ہی کے سر ہے۔

شیراز علی

اُردو لیکچرار مانچسٹر یونیورسٹی برطانیہ

یوکشائر ادبی  فورم کی   جمیل الدین عالی کی یاد میں منعقدہ  تقریب   میں مورخہ  دس  جنوری  ۲۰۱۶بروز اتوار کو پڑھا گیا۔