وقت نے سائنس کے بل پر کرہ ارض کی طنابیں کھنچ کر ایک عالمی معاشرہ پیدا کر دیا ہے۔ آج کے دور میں کوئی سا  خطہ بھی انسان کی دست گاہ سے باہر نہیں رہا اور  اس عالمی تناظر میں علم کے سوتے بھی عالم گیر ہو چکے ہیں اور ان  سوتوں میں سب سے اہم زبان ہے کیونکہ زبان کی مثال شیشہ و جام کی ہے۔ جس میں آپ علم کا مشروب پیش  کر سکتے ہیں۔ کسی بھی تہذیب و ثقافت کا اصل ستون زبان ہوتی ہے۔ زبان خیال ہے اور خیال زبان ہے۔ الفاظ ہمیں سوچنے میں ویسی ہی مدد کرتے ہیں جیسی آنکھیں دیکھنے میں۔ زبان کی ترقی در حقیقت عقل کی ترقی ہے۔ یہ نہ صرف انسان کی ذہنی، معاشرتی ،سیاسی اور سماجی ترقی میں مدد دیتی ہے بلکہ نظر میں وُسعت، دماغ میں روشنی اور خیالات میں تغیر پیدا کرتی ہے۔ اُردو زبان اب ایک عالمگیر زبان بن چکی ہے اور اب دنیاکے مختلف ملکوں کی دانش گاہوں میں اردو زبان و ادب کی تدریس وتحقیق کے شعبے موجود ہیں اور دنیا کے تمام بڑے اور اہم ریڈیواسٹیشن چوبیس گھنٹے میں کئی بار اردو خبریں، مباحثے اور کلچر پروگرام نشر کرتے ہیں۔ کلاسیکی، جدید اور مغربی دھنوں کے ساتھ اردو غزلیں اور گیت پوری  دنیا میں رات دن گائے جاتے ہیں۔ اس زبان کی موسیقی کو ساری دنیا سنتی ہے اور لطف اندوز ہوتی ہے۔ ان سب باتوں سے ”سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے“ کے شاعرانہ دعوے کی تصدیق ہوتی ہے اور  شورش کاشمیری کا یہ جملہ ہر اُردو تحریک کا ولولہ انگیز نعرہ بننے کا مستحق ہے کہ: (اُردو میں کائنات کے سما جانے کا  حوصلہ ہے)۔